(دن نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب بٹ کو پولیس سیکیورٹی فراہم کرنے کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے متعلقہ حکام کے مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے عدالت میں اس کیس کی سماعت جسٹس طارق سلیم شیخ نے کی جہاں درخواست گزار شہری خاتون پلوشہ عبدالحد کی جانب سے رجب بٹ کو دی جانے والی سیکیورٹی کو چیلنج کیا گیا تھا سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رجب بٹ ایک معروف سوشل میڈیا شخصیت ہیں اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات زیر سماعت ہیں جس کے باعث عدالتوں میں پیشی کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنا ضروری ہے انہوں نے واضح کیا کہ رجب بٹ کو کسی قسم کا سرکاری پروٹوکول نہیں دیا جا رہا بلکہ صرف حفاظتی نقطہ نظر سے پولیس سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ رجب بٹ کے خلاف سیشن کورٹ میں ایک خاتون سے زیادتی کے مقدمے کا ٹرائل جاری ہے اور درخواست گزار اسی مقدمے میں گواہ ہیں انہوں نے کہا کہ ایک ملزم کو ہر پیشی پر پولیس سیکیورٹی دینا غیر مناسب ہے کیونکہ وہ نہ تو کوئی سرکاری عہدہ رکھتے ہیں اور نہ ہی عوامی نمائندہ ہیں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کو خارج کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کو قانونی قرار دیا اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا اور قانونی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں جبکہ کیس سے متعلق مزید کارروائی متعلقہ عدالت میں جاری رہے گی