مائیکل وان نے آرچر کے آئی پی ایل فیصلے پر بورڈ کو آڑے ہاتھوں لیا

فائل فوٹو،سوشل میڈیا

(دن نیوز)انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل وان نے فاسٹ بولر جوفراآرچر کے حوالے سے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ  کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان نے کہا کہ آرچر کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ انہیں انڈین پریمیئر لیگ (Indian Premier League) جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ٹیسٹ کرکٹ کی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے، کیونکہ ایک مرکزی معاہدے کے حامل کھلاڑی کو قومی ٹیم کے اہم میچز کے بجائے فرنچائز کرکٹ کو ترجیح دینے کی اجازت دینا غیر معمولی بات ہے۔

مائیکل وان نے اپنے مؤقف میں کہا کہ اگر انگلینڈ کی ٹیم ایک اہم ٹیسٹ سیریز کھیلنے جا رہی ہے تو اس موقع پر اہم کھلاڑیوں کی دستیابی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرچر جیسے تجربہ کار فاسٹ بولر کی عدم موجودگی ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیسٹ کرکٹ کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا کرکٹ بورڈز اور فرنچائز لیگز کے درمیان کسی قسم کی غیر رسمی سمجھوتہ موجود ہے جس کے تحت کھلاڑیوں کو لیگ کرکٹ جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ وان کے مطابق اگر واقعی ایسا ہے تو یہ صورتحال بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تشویشناک ہے۔

سابق کپتان نے مزید کہا کہ فرنچائز کرکٹ مالی طور پر کھلاڑیوں کے لیے فائدہ مند ضرور ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ قومی ذمہ داری کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کھیل کی اصل پہچان ہے اور اسے ہر حال میں اولین حیثیت ملنی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ اگر کرکٹ بورڈز کھلاڑیوں کو لیگ کرکٹ میں شرکت کی اجازت دینا چاہتے ہیں تو پھر بین الاقوامی شیڈول اس طرح ترتیب دیا جانا چاہیے کہ دونوں کے درمیان ٹکراؤ نہ ہو۔

یاد رہے کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ 4 جون سے شروع ہونا ہے، اور اسی تناظر میں آرچر کی دستیابی یا عدم دستیابی پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *