(دن نیوز) کالی کھانسی جسے طبی اصطلاح میں انتہائی متعدی بیکٹیریل بیماری قرار دیا جاتا ہے ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ ماہرین کے مطابق یہ مرض بعض مریضوں میں غیر معمولی طور پر طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے اور اسے اسی وجہ سے عام طور پر “100 دن والی کھانسی” بھی کہا جاتا ہے، یہ بیماری بنیادی طور پر سانس کی نالی کو متاثر کرتی ہے اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں چھینک یا کھانسی کے ذریعے آسانی سے منتقل ہو سکتی ہے، ابتدائی مرحلے میں اس کی علامات عام نزلہ زکام سے ملتی جلتی ہوتی ہیں جن میں ناک بہنا، ہلکا بخار اور معمولی کھانسی شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر افراد اسے معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، تاہم چند دنوں کے اندر کھانسی کی شدت بڑھ جاتی ہے اور مریض کو بار بار شدید دوروں کی صورت میں کھانسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بعض اوقات اتنے تکلیف دہ ہوتے ہیں کہ سانس لینے میں دشواری، قے، شدید تھکن اور نیند کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں اس بیماری کے دوران کھانسی کے بعد مخصوص آواز سنائی دیتی ہے جبکہ بالغ افراد میں یہ علامت اکثر واضح نہیں ہوتی جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے،
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض مریضوں میں یہ کھانسی اوسطاً 54 دن تک رہتی ہے جبکہ کئی کیسز میں یہ مدت 100 دن تک بھی پہنچ سکتی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری نمونیا، پسلیوں کے فریکچر، پھیپھڑوں کی خرابی اور مسلسل کمزوری جیسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، بزرگ شہری، دمے کے مریض اور سگریٹ نوشی کرنے والے افراد زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اینٹی بایوٹک ادویات کا استعمال بیماری کی شدت کو کم کرنے اور جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو کئی ہفتوں تک مسلسل کھانسی رہے، رات کے وقت کھانسی میں اضافہ ہو یا کھانسی کے بعد قے آنے لگے تو فوری طور پر طبی معائنہ کرایا جائے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔