ورلڈ ایتھلیٹکس نے بیلاروس کی واپسی کی آئی او سی کی تجویز مسترد کر دی

فائل فوٹو،سورس گوگل

(ّدن نیوز)ورلڈ ایتھلیٹکس نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں بیلاروس کے کھلاڑیوں کو قومی پرچم تلے بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی کی اجازت دینے کی بات کی گئی تھی۔

آئی او سی ایگزیکٹو بورڈ نے حالیہ اجلاس میں تجویز دی تھی کہ بیلاروس کے ایتھلیٹس کو دوبارہ عالمی مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے، تاہم روس پر پابندیاں برقرار رکھی جائیں۔ آئی او سی کا مؤقف تھا کہ بیلاروس کی اولمپک کمیٹی اولمپک چارٹر کی پاسداری کر رہی ہے اور اس کے کھلاڑی غیر جانبدار حیثیت میں بہتر رویہ دکھا چکے ہیں۔

اس کے برعکس ورلڈ ایتھلیٹکس نے واضح کیا ہے کہ مارچ 2022 میں بیلاروس اور روس پر لگائی گئی پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔ ادارے کے مطابق جب تک روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں امن مذاکرات کی جانب کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوتی، تب تک ان ممالک کے کھلاڑی، آفیشلز اور معاون عملے کو عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دوسری جانب روس کے حوالے سے بھی سخت پالیسی برقرار ہے۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے حال ہی میں 300 سے زائد روسی ایتھلیٹس پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے بعد روسی اولمپک کمیٹی کی معطلی بھی جاری ہے۔ آئی او سی نے بھی ڈوپنگ تحقیقات اور ماسکو لیبارٹری کے ڈیٹا سے متعلق مسائل کو بنیاد بناتے ہوئے روس کی واپسی کو فی الحال ناممکن قرار دیا ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب لاس اینجلس اولمپکس 2028 اور سرمائی یوتھ اولمپکس 2028 کے کوالیفائنگ مراحل شروع ہونے والے ہیں۔ بیلاروس کے کھلاڑیوں کی شرکت ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔

عالمی کھیلوں کی دنیا اس معاملے پر منقسم نظر آتی ہے۔ کچھ ادارے جیسے فیفا اور ورلڈ ایکواٹکس پابندیوں میں نرمی کے حق میں ہیں، جبکہ ورلڈ ایتھلیٹکس اور یوکرین اسے قبل از وقت اور غیر ذمہ دارانہ فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *