ٹرا پروسیسڈ غذائیں دل کی بیماریوں اور قبل از وقت موت بڑھاتی ہیں،، ماہرین صحت

(دن نیوز) ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال انسانی صحت کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے اور یہ عادت امراض قلب سمیت قبل از وقت موت کے امکانات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں وہ خوراکیں ہوتی ہیں جو کئی صنعتی مراحل سے گزر کر تیار کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی، چکنائی، مصنوعی ذائقے اور کیمیکل اجزا کی مقدار زیادہ جبکہ فائبر اور قدرتی غذائیت کم ہوتی ہے۔ اس قسم کی خوراک میں فاسٹ فوڈ، برگر، پیزا، سافٹ ڈرنکس، میٹھے مشروبات، بیکری مصنوعات، کیک، چکن نگیٹس اور فوری تیار ہونے والے نوڈلز شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو روزانہ زیادہ مقدار میں یہ غذائیں استعمال کرتے ہیں ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ تقریباً 19 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کے امکانات 13 فیصد تک زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ دل کی بیماریوں سے موت کے امکانات میں بھی 65 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یہ غذائیں موٹاپے، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے امراض سے بھی تعلق رکھتی ہیں جبکہ خون میں نقصان دہ چکنائی کی سطح بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔ برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کی ایک الگ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے استعمال میں ہر 10 فیصد اضافے کے ساتھ قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً 3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ آٹھ مختلف ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی جائزے میں امریکا کو ان غذاؤں کے سب سے زیادہ استعمال والا ملک قرار دیا گیا جہاں ان خوراکوں کے باعث قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً 14 فیصد تک بڑھنے کی نشاندہی کی گئی۔ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کی تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یہ غذائیں جسمانی بڑھاپے کے عمل کو بھی تیز کرتی ہیں اور اگر روزمرہ کیلوریز کا بڑا حصہ اسی خوراک سے حاصل کیا جائے تو جسمانی عمر اور اصل عمر کے درمیان فرق بڑھنے لگتا ہے۔ ماہرین صحت نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ تازہ، قدرتی اور متوازن خوراک کو ترجیح دیں تاکہ دل، گردوں اور دیگر اعضا کو لاحق خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *