(دن فارن ڈیسک)امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپنے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق امریکی میڈیا کی کوریج پر شدید تنقید کرتے ہوئے بعض میڈیا اداروں پر ایران کی مدد اور حوصلہ افزائی کا الزام عائد کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب نام نہاد فیک نیوز یہ تاثر دیتی ہے کہ ایرانی امریکا کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں تو یہ عمل امریکا کے ساتھ غداری کے مترادف بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس ایران کو جھوٹی امید فراہم کررہی ہیں اور اس قسم کی رپورٹنگ امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ایسے عناصر دراصل اپنے ہی ملک کی بنیادیں کمزور کررہے ہیں اور صرف ہارنے والے، نادان اور غیر ذمہ دار لوگ ہی امریکا کے خلاف بیانات دے سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں چین روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران یا تو درست فیصلہ کرے گا یا پھر امریکا اپنا کام مکمل کردے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چینی صدر کے ساتھ ایران جنگ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کریں گے تاہم ان کے مطابق ایران کے معاملے پر انہیں چین کی مدد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے سید عاصم منیر کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان مذاکراتی عمل میں شاندار رہا جبکہ فیلڈ مارشل بہترین شخصیت ہیں۔ ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا کی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ وینزویلا کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا وینزویلا سے تمام سیاسی قیدیوں کو باہر نکالنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد امریکی سیاسی حلقوں اور عالمی میڈیا میں ایران جنگ، امریکی میڈیا کے کردار اور خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔