(دن نیوز)پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ فارمیٹ میں ناکامیوں کا سلسلہ ایک بار پھر بنگلہ دیش کے خلاف شکست کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ میرپور ڈھاکہ میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بنگلہ دیش نے اپنی سرزمین پر پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں شکست دی، جبکہ مجموعی طور پر پاکستان کے خلاف یہ اس کی مسلسل تیسری ٹیسٹ فتح ہے۔
میچ کے آغاز سے قبل قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے بیانات امید افزا تھے۔ شاہین شاہ آفریدی نے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی جبکہ سلمان علی آغا نے پانچویں روز ہدف حاصل کرنے کے اعتماد کا اظہار کیا تھا، تاہم میدان میں صورتحال اس کے برعکس رہی۔ بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسن شنٹو نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں سنچری اور دوسری اننگز میں 87 رنز بنا کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ برداشت نہ کر سکی اور 268 رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 163 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ کپتان شان مسعود، نائب کپتان سعود شکیل اور دیگر سینئر کھلاڑی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ وکٹ کیپر محمد رضوان کی غلطیوں اور بولرز کی غیر مؤثر کارکردگی نے بھی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ نوجوان کھلاڑی ازان اویس اور عبداللّٰہ فضل نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، مگر مجموعی ٹیم کارکردگی سوالیہ نشان بنی رہی۔ ماہرین کے مطابق ٹیم کو صرف تبدیلیوں نہیں بلکہ مستقل مزاجی، ذمہ دارانہ کھیل اور بہتر حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔