(دن نیوز)عالمی کرپٹو اور بلاک چین پلیٹ فارم “کرپٹو سلیٹ” کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے میدان میں اہم پیش رفت کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اب کرپٹو ریگولیشنز کے نفاذ میں اسرائیل کے برابر آ چکا ہے، جو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک قابلِ ذکر پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کا کرپٹو ریگولیٹری ادارہ “پیوارا” بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ریگولیٹڈ کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دینا ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اپنی قومی کرنسی شیکل پر مبنی اسٹیبل کوائن کی منظوری دی ہے، جسے خطے میں ڈیجیٹل فنانس کی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اسرائیل جیسے ملک کے برابر آنا بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اب تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان کرپٹو اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں کئی ممالک سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ایجنٹس کرپٹو کرنسی کے ذریعے لاکھوں ڈالرز کی ادائیگیاں کر رہے ہیں، جس سے مستقبل کی معیشت کا رخ واضح ہو رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے نوجوانوں اور فری لانسرز پر زور دیا کہ وہ اے آئی اور ڈیجیٹل مہارتیں سیکھیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں بہتر مواقع حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب لانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں، جن کا مقصد معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔