(دن نیوز)ایرانی ریال کی پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں 1 کروڑ ایرانی ریال کا بنڈل 8 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کے مطابق کراچی، لاہور اور کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ایرانی ریال کی طلب میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایرانی ریال کی قدر انتہائی کم ہے، تاہم پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں یہ اپنی اصل عالمی قیمت سے تین سے چار گنا زائد ریٹ پر فروخت ہو رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق انٹرنیشنل آفیشل ریٹ کے تحت 1 کروڑ ایرانی ریال کی مالیت تقریباً 2 ہزار 125 پاکستانی روپے بنتی ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں یہی رقم کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدی جا رہی ہے۔
کرنسی ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی اضافے کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بعض مقامی سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ United States اور Iran کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات اور ممکنہ پابندیوں میں نرمی کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں مستقبل میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سرمایہ کار منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری اہم وجہ بلوچستان کے راستے ہونے والی غیر رسمی سرحدی تجارت کو قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی لین دین میں نقد ایرانی ریال کی ضرورت برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی طلب مقامی مارکیٹ میں ریال کی قیمت کو سہارا دے رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ریال کی موجودہ قیمتیں بنیادی معاشی حقیقت کے بجائے مقامی طلب اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سیاسی صورتحال یا پابندیوں میں اچانک تبدیلی کی صورت میں ریال کی قیمت تیزی سے گر بھی سکتی ہے، جس سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو احتیاط اور مکمل معلومات کے بعد سرمایہ کاری کرنے کا مشورہ دیا ہے۔