(دن فارن ڈیسک)امریکی سینیٹ میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد 51 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی۔ قرارداد کا مقصد صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر کیوبا کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے روکنا تھا۔ شِنہوا کے مطابق سینیٹ میں قرارداد کی مخالفت سینیٹر رک سکاٹ نے کی جبکہ ووٹنگ کے نتیجے میں یہ تجویز منظور نہ ہو سکی۔

ووٹنگ کے دوران ریپبلکن پارٹی سے صرف دو سینیٹرز سوسن کولنز اور رینڈ پال نے ڈیموکریٹس کی زیر قیادت قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ دوسری جانب سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے اپنی جماعت سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ قرارداد سینیٹر روبن گیلیگو، ٹم کین اور ایڈم شِف نے پیش کی تھی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوری سے ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا پر تیل سے متعلق پابندیوں کا نیا سلسلہ نافذ کر رکھا ہے جبکہ کیوبا کے خلاف متعدد بار سخت بیانات اور فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دی جا چکی ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کیوبا میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔
ووٹنگ سے قبل سینیٹر روبن گیلیگو نے بیان میں کہا کہ ایران جنگ کی تباہی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب کیوبا پر حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق قرارداد کی ناکامی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹ میں صدر کے اختیارات محدود کرنے کے معاملے پر واضح تقسیم موجود ہے جبکہ خارجہ اور عسکری پالیسی پر سیاسی اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔