(دن نیوز) بازار میں فروخت ہونے والے کیلے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے پھلوں میں شامل ہیں اور انہیں بچوں کی ابتدائی ٹھوس غذا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے کیلا غذائی اعتبار سے وٹامن بی 6، وٹامن سی، میگنیشیم، فائبر اور پوٹاشیم کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے جو انسانی جسم میں بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے، دل کی صحت بہتر بنانے اور نظام ہاضمہ کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ کیلے میں موجود ٹرپٹوفین نامی جز موڈ کو بہتر بنانے اور نیند کے معیار کو بہتر کرنے میں معاون ہوتا ہے تاہم حالیہ عرصے میں مارکیٹ میں دستیاب تمام کیلے قدرتی نہیں ہوتے کیونکہ بعض دکاندار پھل کو جلدی پکانے اور بہتر رنگ دینے کے لیے کیلشیم کاربائیڈ جیسے کیمیائی محلول کا استعمال کرتے ہیں جس سے کیلا مصنوعی طور پر راتوں رات پیلا ہو جاتا ہے اور اس کی ظاہری شکل قدرتی لگنے لگتی ہے لیکن اس عمل سے پھل کی اصل غذائیت متاثر ہو جاتی ہے قدرتی کیلا عام طور پر پورے پھل میں یکساں رنگ رکھتا ہے جبکہ کیمیکل سے پکا ہوا کیلا درمیان سے زیادہ پیلا اور کناروں سے سبز رہ جاتا ہے اسی طرح قدرتی کیلے کی ڈنڈی سیاہ ہونے لگتی ہے
جبکہ مصنوعی کیلا اس علامت سے عاری ہوتا ہے ماہرین کے مطابق کیلشیم کاربائیڈ انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے اور اس کے استعمال سے معدے میں جلن، سوزش، پیٹ درد، دست، سر درد اور چکر جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ اس کے کیمیائی اثرات سانس کی نالی اور گلے میں خراش کا سبب بھی بن سکتے ہیں جبکہ اس میں موجود زہریلے اجزا جیسے آرسینک اور فاسفورس جسم میں کمزوری اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں اسی لیے ماہرین صحت شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ پھل خریدتے وقت قدرتی پکے ہوئے کیلے کو ترجیح دی جائے اور غیر معمولی طور پر چمکدار یا غیر متوازن رنگ والے کیلے سے احتیاط کی جائے تاکہ صحت کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے